بھٹکل:28؍فروری (ایس او نیوز) بائیلور گرام پنچایت صدر کو گدی سے اتارنےکی دو مرتبہ ناکام کوشش کے بعد حکومت کی طرف سے بدلے گئے اصول کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کا موقع پائے بائیلور گرام پنچایت صدر کے مخالف ممبران کو پھر ایک بار منہ کی کھانی پڑی ہے۔
بائیلور گرام پنچایت دفتر میں بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا کی موجودگی میں متعینہ عدم اعتماد تحریک کی میٹنگ میں صدر منجوناتھ نائک کے علاوہ کوئی ممبر حاضر نہیں ہوا۔ بائیلور پنچایت کے 10ممبران نے اے سی سے صدر کے خلاف عدم اعتماد کی اپیل کی تھی۔ میٹنگ میں عدم اعتماد تحریک کے لئے درکار 11ممبران کی حمایت میں ناکام ہونے سے مخالف ممبران منہ کی کھائے ہیں۔ اب جب کہ پنچایت کی میعاد صرف ایک سال باقی رہ گئی ہے دوبارہ عدم اعتماد تحریک کے لئے موقع نہیں رہے گا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق گرام پنچایت صدر منجوناتھ نائک سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا کےمکمل حمایت ہونے سے اپنا عہدے کو بچانےمیں کامیاب ہوئے ہیں۔ صدر منجوناتھ کو عہدے سے نکالنے کےلئے بی جےپی لیڈران کی بھی حمایت ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ اسی دوران میں معاملہ دو مرتبہ ہائی کورٹ گیا تھا جہاں صدر کو ہی جیت حاصل ہوئی تھی۔ بائیلور گرام پنچایت میں صدر کی جیت ہوتے ہی منکال وئیدیا کے گھر میں مٹھائی تقسیم کی گئی ۔ اس موقع پر ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، ممبر سندھو بھاسکرنائک، ایم پی ایم سی صدر گوپال نائک وغیرہ موجود تھے۔
جیت کے بعد صدر منجوناتھ نائک نےکہاکہ میں اپنی میعاد میں تمام ممبران کو اعتماد میں لے کر کام کرنےکی کوشش کی ہے، لیکن گزشتہ ودھان سبھا انتخابات کے بعد پارٹی سیاست کی وجہ سے بے کار میں عدم اعتماد کی تحریک کی کوشش کرتے ہوئے ناکام ہوئے ہیں۔پھر ایک بار ثابت ہوا کہ میں انصاف کے راستہ پر ہوں۔